گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں

پاکستان میں گذشتہ ہفتے پیش آنے والے چند اہم واقعات کی تصویری جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں۔


وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے 25 مئی کو دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والا مالی سال پاکستان کے لیے استحکام کا سال ہو گا اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کی بنیاد کفایت شعاری ہو گی۔


وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے 25 مئی کو دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والا مالی سال پاکستان کے لیے استحکام کا سال ہو گا اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کی بنیاد کفایت شعاری ہو گی۔


ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف 23 مئی کو وفد کے ہمراہ پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آئے اور وزارت خارجہ میں پاکستان اور ایران کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران پاک ایران تعلقات، علاقائی سلامتی سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔

AFP
23 مئی کو نجی ٹی وی چینل نے ایسی ویڈیو اور آڈیو نشر کی جس میں مبینہ طور پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ایک خاتون سے نازیبا گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خبر کے پیچھے ایک بلیک میلرز کا گروپ ہے اور اس عمل کا مقصد ادارے اور چیئرمین نیب کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔


پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 24 مئی کو رحمانیہ مسجد کے اندر ہونے والے بم دھماکے میں کم ازکم تین افراد ہلاک اور25 زخمی ہوئے تھے۔ بلوچستان میں 2000ء کے بعد سے بم دھماکوں اور اس نوعیت کے بد امنی کے دیگر واقعات کا سلسلہ کمی و بیشی کے ساتھ جاری ہے۔


رواں ہفتے پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا۔ پاکستان میں ڈالر کی قدر میں اضافے اور اس کی اوپن مارکیٹ میں عدم دستیابی کی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے ہونے والے معاہدے کو قرار دیا جا رہا ہے۔


چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس افطار ڈنر میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز بھی شریک ہوئی۔ جہاں ایک طرف اس اجلاس میں عید کے بعد حکومت مخالف تحریک پر بات ہوئی وہی اس افطاری نے دہائیوں سے چلنے والی ’عورت سے نفرت‘ پر مبنی بحث ایک بار پھر سوشل میڈیا پر گرم ہے۔


ملک میں معاشی عدم استحکام اور پاکستانی روپے کی مسلسل بے قدری سے روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔


ماہ رمضان کے دوران ملک بھر میں مخیر حضرات لوگوں کے لیے مفت سحری و افطاری کا اہتمام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے شہر کراچی کی مرکزی شاہراہ پر افطار کے وقت مخیر حضرات کی جانب سے لوگوں کے لیے افطاری کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں سیکڑوں شہری شریک ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف 23 مئی کو وفد کے ہمراہ پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آئے اور وزارت خارجہ میں پاکستان اور ایران کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران پاک ایران تعلقات، علاقائی سلامتی سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔


23 مئی کو نجی ٹی وی چینل نے ایسی ویڈیو اور آڈیو نشر کی جس میں مبینہ طور پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ایک خاتون سے نازیبا گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خبر کے پیچھے ایک بلیک میلرز کا گروپ ہے اور اس عمل کا مقصد ادارے اور چیئرمین نیب کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔


پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 24 مئی کو رحمانیہ مسجد کے اندر ہونے والے بم دھماکے میں کم ازکم تین افراد ہلاک اور25 زخمی ہوئے تھے۔ بلوچستان میں 2000ء کے بعد سے بم دھماکوں اور اس نوعیت کے بد امنی کے دیگر واقعات کا سلسلہ کمی و بیشی کے ساتھ جاری ہے۔

GETTY IMAGES
رواں ہفتے پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا۔ پاکستان میں ڈالر کی قدر میں اضافے اور اس کی اوپن مارکیٹ میں عدم دستیابی کی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے ہونے والے معاہدے کو قرار دیا جا رہا ہے۔


چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس افطار ڈنر میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز بھی شریک ہوئی۔ جہاں ایک طرف اس اجلاس میں عید کے بعد حکومت مخالف تحریک پر بات ہوئی وہی اس افطاری نے دہائیوں سے چلنے والی ’عورت سے نفرت‘ پر مبنی بحث ایک بار پھر سوشل میڈیا پر گرم ہے۔


ملک میں معاشی عدم استحکام اور پاکستانی روپے کی مسلسل بے قدری سے روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔


ماہ رمضان کے دوران ملک بھر میں مخیر حضرات لوگوں کے لیے مفت سحری و افطاری کا اہتمام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے شہر کراچی کی مرکزی شاہراہ پر افطار کے وقت مخیر حضرات کی جانب سے لوگوں کے لیے افطاری کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں سیکڑوں شہری شریک ہیں۔