سپریم کورٹ نے شہباز شریف کے دور میں مکمل ہونیوالے نندی پور منصوبے کا کیس ری اوپن کر دیا، خواجہ آصف کے سپریم کورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات چیف جسٹس نے کس کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے نندی پور منصوبے سے متعلق کیس ری اوپن کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے نندی پور منصوبے سے متعلق کیس روی اوپن کر دیا ہے جس کی سماعت کل ہو گی اس حوالے سے وفاق، پیپکو اور واپڈا سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دئیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آج نندی پور پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سابق وفاقی وزیر پانی و بجلی اور ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف عدالت میں پیش

ہوئے۔ چیف جسٹس نے خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا خواجہ صاحب آپ وزیر رہے تو مسائل حل کیوں نہ کئے ، آپ کے پاس اختیار تھا، مسئلہ حل کراتے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مجھے کیس سےیہ کہہ کرا لگ کردیا گیا تھا کہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو کیس سے الگ کیا گیا تھا لیکن تحقیقات تو کرا سکتے تھے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایک کمیشن رحمت علی جعفری کی سربراہی میں بنا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کمیشن نے ذمہ داری بھی طے کردی تھی۔خواجہ آصف نے جواب دیا کہ اس میں حکم تھا کہ نندی پور اور چیچوں کی ملیاں پر کام مکمل کریں۔اس موقع پر جسٹس اعجازلاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے 2011 میں درخواست دائر کی ،اب 7سال ہوگئے، آپ بتائیں اب اس درخواست میں کیا رہ گیا کہ اسے سنیں۔خواجہ آصف نے جواب دیا کہ نندی پور منصوبہ اب 5 سال سے کام کر رہا ہے، منصوبہ ٹھیکے پر نہیں، اونر شپ حکومت کی ہے۔جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی درخواست میں وزارت قانون کی اعلیٰ شخصیت کا ذکر ہے، آپ نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے تاخیر کی۔خواجہ آصف نے جواب دیا، ‘جی اس شخصیت نے روکا تھا اور کمیشن نے بھی مان لیا تھا کہ تاخیر سے منصوبےکی لاگت بڑھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس دور میں جہاں بھی گڑبڑ ہوئی، اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔واضح رہےکہ نندی پور پاور پراجیکٹ پنجاب میں گزشتہ دورِ حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا جس کے ذریعے 525 میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے منصوبے میں کرپشن کے الزمات عائد کیے گئے تھے۔رپورٹس کے مطابق 2005 میں بننے والے نندی پور پاور پراجیکٹ کی لاگت 22 ارب روپے سے 58 ارب روپے تک جاپہنچی تھی۔خیال رہے کہ شہباز شریف نے بھی نندی پور پاور پراجیکٹ کی لاگت بڑھنے کے حوالے سے متعدد بار بابر اعوان کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔